بنگلورو،10/جنوری(ایس او نیوز) مودی کے متنازع شہریت قانون کے خلاف کرناٹک کے عیسائی طبقہ نے پر زور آواز اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انسانیت کے بنیادی تقاضوں سے عاری اس غیر آئینی قانون کو فوراً واپس لیا جائے۔ بنگلورو میں عیسائی فرقہ کے روحانی پیشوا پیٹر مکاڈو نے جمعرات کے روز ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے جو شہریت قانون منظور کیا ہے وہ دستور ہند کے بنیادی اصولوں سے ٹکراتا ہے۔اس ملک میں کوئی بھی قانون مذہبی امتیاز کی بناء پر نہیں بن سکتا۔ اس لئے ملک میں عیسائی طبقہ کے رہنما ممبئی کے آرچ بشپ اوسوالڈ کاڈنل گریشیس کے موقف کی تقلید کرتے ہوئے ملک بھر میں عیسائیوں نے یہ طے کیا ہے کہ شہریت قانون کی پر زور مخالفت کی جائے۔ انہوں نے شہریت قانون کے خلاف احتجاجات کے دوران پر تشدد واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ اس قانون کے خلاف جو بھی پر امن تحریک جاری ہے اس کی عیسائی برادری حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے نہ صرف ایک طبقہ کی نشاندہی کر کے اس سے وابستہ مظلوموں کو شہریت دینے سے انکار کردیا گیاہے بلکہ قانون کے ذریعے مظلوموں کو شہریت دینے کے لئے مدت اقامت میں پانچ سال کی کٹوتی کردی گئی ہے اس اقدام سے ہزاروں کی تعداد میں مظلوم شہریت سے محروم ہو جائیں گے۔اس قانون کی وجہ سے لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔اس کے خلاف پہلے آسام میں تشدد کی لہر چلی اور اب دھیرے دھیرے ملک کے دیگر حصوں میں پھیلتی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی شہریت انفرادی بنیاد پر دی جانی چاہئے نہ کہ کسی کے مذہب کی بنیاد پر۔ مرکزی حکومت کی طرف سے این پی آر پر کام شروع کئے جانے کی بھی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این پی آر کے ذریعے مرکزی حکومت لوگوں کو دستاویزات کے لئے ہراساں کرنا چاہتی ہے جو ہرگز قابل قبول نہیں۔ فادر مکاڈو نے کہا کہ شہریت ثابت کرنے کے لئے ملک کے ہر شہری سے دستاویزات کا اصرار کرنا درست نہیں۔ غریب عوام جن کے پاس رہنے کے لئے گھر بھی میسر نہیں وہ دستاویزات کہاں سے لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اس قانو ن کی اگر اس شدت سے مخالفت کی جا رہی ہے تو حکومت کو اس کا احساس کرنا چاہئے۔ وزیر اعظم مودی کے اس بیان کو ”جن لوگوں کو علم نہیں وہی اس قانو ن کی مخالفت کر رہے ہیں“آرچ بشپ نے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ اس قانون کے خلاف ملک بھر میں جو احتجاج جاری ہے ملک کا تعلیم یافتہ اور دانشور طبقہ بھی اس میں پیش پیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ملک کے عوام سے یہ وعدہ کیاتھا کہ ان کی حکومت سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس حاصل کرنے کے لئے کام کرے گی لیکن بدقسمتی سے ان کے قول اور فعل میں تضاد صاف نظر آرہا ہے۔شہریت قانو ن کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کی بعض عیسائی تعلیمی اداروں کے طلباء کی کوشش کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آرچ بشپ نے کہا کہ عیسائیوں کی طرف سے جو تعلیمی ادارے چل رہے ہیں ان میں کسی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں۔ البتہ کالج کیمپس کے باہر طلباء کیا کرتے ہیں اس کے لئے کسی ادارے کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔